بیروزگاری کے مسئلہ کا آفاقی حل

نعیم رضا  ۔ برطانیہ

بچپن میں سکول کی کتابوں میں یہ واقعہ تو سب نے پڑھا ہوگا کہ ایک غریب شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مدد کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے بجائے اسے مالی مدد دینے کے، اسے ایک کلہاڑا خریدنے کے پیسے دیئے اور کہا کہ اس رقم سے درختوں کی لکڑیاں کاٹو اور اپنا رزق کماؤ۔

یہ بیروزگاری کے مسئلے کا سب سے بنیادی اور آفاقی حل تھا جو کائنات کی سب سے افضل شخصیت ﷺ نے پیش کیا۔

دنیا کی کوئی حکومت بیروزگاروں کو سرکاری نوکریاں نہیں دے سکتی، کیونکہ نہ تو سرکاری محکموں میں اتنی گنجائش ہوتی ہے کہ کروڑوں لوگوں کو وہاں کھپایا جاسکے، نہ ہی وسائل کہ جن سے تنخواہیں ادا کی جاسکیں۔ بیروزگاری کا واحل حل جو حکومت کرسکتی ہے وہ ہے بزنس ایکٹیویٹی کو فروغ دینا اور ایسا ماحول پیدا کرنا کہ جس کے تحت نئے کاروبار شروع ہوں اور لوگوں کو نوکریاں مل سکیں۔

امریکہ، برطانیہ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں سرکاری نوکریوں کا حجم مجموعی لیبر فورس کا دس سے بارہ فیصد تک ہوتا ہے۔ جبکہ تمام ملازمت پیشہ افراد کے مقابلے میں فری لانسر یعنی وہ لوگ جو بطور فرد واحد اپنا کام کرتے ہیں، کا تناسب سب سے زیادہ ہوتا ہے اور یہی وہ وجہ ہے کہ ان ممالک کی معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے اور عوام کی اکثریت معاشی طور پر اتنی مستحکم ہوتی ہے کہ ہر فرد اپنی گاڑی، فریج، ٹی وی اور کم سے کم ایک کمرے کی رہائش افورڈ کرسکتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں الٹی گنگا بہتی ہے۔ یہاں کے عوام بغیر کچھ کئے حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ انہیں سرکاری نوکری دے تاکہ وہ کرسی پر بیٹھ کر بغیر کام کئے رشوت کھائیں۔ بہت تھوڑی تعداد پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔ جن کے پاس کوئی تعلیمی قابلیت نہیں ہوتی، وہ دکانوں وغیرہ پر بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں بھی ٹک کر کام نہیں کرتے۔
            شہروں کی حد تک آپ سب لوگ اتفاق کریں گے کہ اگر آپ کو کبھی کسی الیکٹریشن، پلمبر، پینٹر یا مستری کی ضرورت پڑے تو آپ کو وہ فوری دستیاب نہیں ہوتا۔ ہر محلے میں ایک آدھ پلمبر ہوگا جو وہاں کا جگا بنا ہوتا ہے۔ اس نے اپنی مرضی کا ریٹ لگانا ہے، اپنی مرضی سے کام پر آنا ہے، اور اپنی ہی مرضی کا کام پکڑنا ہے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ ایسے پاکستانی جو ایف ایس سی کے بعد انجینئرنگ یا میڈیکل نہیں جا پاتے، وہ اس طرح کے ٹیکنیکل پروفیشنز میں کیوں نہیں آتے؟ 

برطانیہ میں پلمبر مہنگا ترین ہینڈی مین کہلاتا ہے، اسکے علاوہ الیکٹریشن اور مستری وغیرہ بھی ہائی ڈیمانڈ میں ہوتے ہیں اور بآسانی دستیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر اتنے پروفیشنل ہوتے ہیں کہ نہ تو زیادہ ریٹ طلب کرتے ہیں اور نہ ہی پارٹس وغیرہ میں دھوکہ کرتے ہیں۔ اعتبار کا عالم یہ کہ لوگ ان کے ساتھ اپوائنٹمنٹ فکس کرکے چابی گھر کے دروازے پر رکھ کر خود دفتر چلے جاتے ہیں اور پیچھے پلمبر وغیرہ آکر کام مکمل کرکے چلے جاتے ہیں اور مجال ہے کہ کسی شے کو ہاتھ لگائیں۔

پاکستان میں یہ پروفیشنلزم کیوں نہیں آسکا؟ ایک طرف دعوے یہ کہ ہر کوئی عاشق رسول ﷺ ہے، دوسری طرف ایمانداری کا عالم یہ کہ سگی ماں بھی اپنی اولاد پر پیسوں کا اعتباد نہیں کرتی۔

 آپ لوگ کوئی کام سیکھتے ہیں نہ ہی آپ کے پاس مالی وسائل ہیں، نہ تعلیمی قابلیت، لیکن نخرے اتنے کہ پلمبنگ یا الیکٹریشن کا کام آپ کی شان گھٹا دیتا ہے ۔ محلے والوں سے ادھار مانگ کر موبائل خرید لیں گے لیکن ریڑھی پر بریانی بیچنا ان کی عزت نفس مجروح کردیتا ہے۔

ایسی قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی، چاہے آپ کا حکمران کوئی مجدد یا اللہ کا ولی ہی کیوں نہ بن جائے، جب تک آپ محنت اور ایمانداری نہیں اپناتے، ہمیشہ مقروض رہیں گے اور مہنگائی کا رونا روتے رہیں گے!!!