ٹیری فاکس : ایک عالمی ہیرو

محمد سلطان ظفر

ٹیرن اسٹینلے فاکس المعروف ٹیری فاکس دس جولائئی 1958 کو کینیڈا صوبہ مینی ٹوبا کے شہر وِنی پیگ میں
پیدا ہوئے۔ وہ اپنے اسکول میں لمبی دوڑ اور باسکٹ بال کے اچھے کھلاڑی تھے۔

12نومبر 1976 کو گاڑی چلاتے ہوئے اُن کو ایک حادثہ پیش آیا  جس میں اُن کے دائیں گھٹنے پر چوٹ آئی جس کی وجہ سے اُن کے گھٹنے میں درد شروع ہوگئی اور یکم جنوری 1977 کو  اُن کی دائیں ٹانگ میں Osteosarcoma  نامی ہڈیوں کے کینسرکی تشخیص ہوئی اور ڈاکٹروں کو مجبوراً اُن کی ٹانگ کاٹنی پڑی۔

            ٹیری کو جلد ہی پتہ چل گیا کہ اُن کا کینسر ،ٹانگ کاٹنے کے باوجود اُن کے جسم میں پھیلنا شروع ہوگیا ہے اور اس کا علاج دُنیا کے  کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں ہے اور نہ  ہی مستقبل میں کوئی امید ہے نیز اُن کی زندگی بہت تھوڑی رہ گئی  ہے ۔ تاہم ٹیری نے  سسک سسک کرمرنے سے انکار کردیا ۔ انھوں نے وہیل چیئر پر بیٹھ کر وینکور میں ہونی والی قومی   چیمپئن شپ تین دفعہ جیتی۔  اُن کا باقی ماندہ وقت ریت کی طرح مٹھی سے نکل رہا تھا اور ایسے موقع پر اُنہوں نے ایسا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے اُن کا نام کینسر کے مریضوں کےلئے امید کی ایسی کرن بن گیا جو آج پوری آب وتاب کے ساتھ آفتاب بن کر چمک رہی ہے۔

            ٹیری فاکس نے فیصلہ کیا کہ وہ کینسر جیسے ناقابل علاج مرض کے لیے تحقیق و مطالعہ اورمریضوں کے علاج کے لئے آگہی اور فنڈز اکٹھا کرنے کے لئے ، رقبہ کے لحاظ سے دُنیا کے دوسرے بڑے ملک ،کینیڈا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک میراتھن دوڑ لگائیں گے اور 24 ملین کی آبادی کے ہر شخص سے ایک ایک ڈالر لے کر 24 ملین ڈالر کی خطیر رقم بطور عطیہ اکٹھا کریں گے۔

            12اپریل 1980کوٹیری فاکس نے   نیوفن لینڈ Newfoundland کے شہرسینٹ جانز  St. John’s میں، چنددرجن بہی خواہوں کے سامنے، بحرِ اٹلانٹک کے ٹھنڈے پانیوں میں اپنی مصنوعی ٹانگ ڈبو کر ، اپنی تاریخی Terry’s Marathon of Hope   کا آغاز کیا۔ ٹیری کے ڈاکٹروں سمیت بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ٹیری کا یہ فیصلہ انتہائی احمقانہ ہے۔ لیکن ….ٹیری فاکس نے بھاگنا شروع کردیا۔

            ٹیری فاکس روز انہ ایک نارمل میراتھن ریس جتنا دوڑتے تھے۔ راستہ میں اُن کو بہت تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ۔ ٹانگ کی درد بڑھتی جارہی تھی لیکن وہ صبر اور ہمت سے برداشت کرتے رہے تاہم راستے میں ملنے والے لوگوں اور گاڑیوں کا رویہ بعض اوقات بہت تکلیف دہ ہوتا تھا۔ وہ آوازے کستے اور ہارن بجاکراپنے غصہ کا اظہار کرتے۔ … وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ عام سا لڑکا کون ہے اور کیوں دوڑ رہا ہے۔

            کینیڈین میڈیا کو جب ٹیری فاکس کے عزم اور دوڑ کی خبر ملی تو اُس نے اُن کی دوڑ کی خبریں واضح طورپر شائع کرنا اور جو اکا دُکا چینل تھے اُن پر دکھانا شروع کردیں۔ لوگوں کو جوں جوں اُن کے بارہ میں علم ہوتا گیا وہ بڑھ چڑھ کر اُن کی مدد کرنے لگ گئے۔ اب لوگ اپنےاپنے شہر ، گاؤں اور قصبہ میں ٹیری کی آمد کا انتظار کرنے لگے اور جب ٹیری اُن کے شہر میں پہنچتے تو وہ بھی اپنے شہر کی حدود میں اُن کے ساتھ ساتھ دوڑتے رہتے۔

اب ٹیری فاکس کو ایک گاڑی بھی مل گئی جس میں اُن کا سامان اور دوائیں ہوتی تھی۔ نیز اکثر شہروں میں پولیس کے سپاہی اُن کے لیے راستہ صاف رکھنے کی کوشش کرتے۔ صوبہ انٹاریو تک پہنچتے پہنچتے ٹیری فاکس پورے ملک کے ہیرو بن چکے تھے۔

            اس دوران اُن کے بیانات بھی اخبارات  کی زینت بنتے چلے گئے۔ اپنی ریس کے پندرویں دن اُن کا کہنا تھا کہ ’’آج ہم صبح 4بجے اُٹھے اور حسبِ معمول یہ ایک مشکل کام تھا۔ اگر میں مرجاتا ہوں تو میری لیے بڑی خوش قسمتی ہوگی کہ وہ کام کرتے ہوئے مارا گیا جو میں کرنا چاہ رہا تھا۔ ایسا کتنے لوگ کہہ سکتے ہیں؟ میں ایک ایسی مثال قائم کرنا چاہتا ہوں جو کبھی نہ بھلائی جاسکے۔‘‘ … ’’اب کم از کم 26کلومیٹر روزانہ دوڑنا میرا معمول بن چکا ہے۔‘‘

ٹیری فاکس کا ایک ایک دن مشکلات سے بھرپور اور نشیب و فراز سے پُر تھا۔ 11 جون کو اُن کا کہنا تھا: ’’آج سارا دن تیز مخالف  ہوا مجھے روکنے کی کوشش کرتی رہی۔ ہوا کےمخالف دوڑنا سخت دشوار تھا۔ یہ میرے اندر گھسی جارہی تھی۔  یہاں اکثر لوگوں کو معلوم بھی نہ تھا کہ میں کون ہوں۔ کئی ٹرک ڈرائیورں نے ترس کھا کر مجھے لفٹ کی پیشکش کی۔‘‘…’’سڑک تنگ تھی اور گزرنے والی گاڑیوں کے لیے میں رکاوٹ بن رہا تھا۔ وہ مسلسل ہارن بجا کر ناراضگی کا اظہار کررہے تھے۔ ایک گاڑی کی ٹکر سے میں گر بھی گیا اور مجھے چوٹ بھی آئی۔‘‘

            کینیڈین دارالحکومت آٹواہ Ottawa  میں داخل ہونے سے پہلے اُنہوں نے کہا: ’’… ایسا لگتا ہے کہ ہر ایک شخص (کینسرسے) شکست تسلیم کرچکا ہے۔ میں نے شکست تسلیم نہیں کی۔ یہ کام  آسان نہیں  ہے اور ہونا بھی نہیں چاہیے۔ لیکن میں کچھ نہ کچھ تو ضرور حاصل کروں گا۔  جو میں آج کررہا ہوں ، کسی نے بیس سال پہلے کیا ہوتا تو آج اس (کینسر) کا علاج ہوتا، لیکن اب مجھے یقین ہے کہ آج سے بیس سال کے بعد اس کا علاج ممکن ہوگا۔‘‘

14 جولائی کو جب ٹیری فاکس ہملٹن Hamilton  سے گزر رہے تھے تو 1960 کے کینیڈین میراتھن چیمپئن  گورڈ ڈِکسن Gord Dickson   نےاپنا گولڈ میڈل یہ کہتے ہوئے اُن کی نذرکردیا اور کہا کہ’’یہ نوجوان,  دُنیا کی تمام دوڑوں سے بہترین دوڑ لگا رہا ہے۔‘‘

12 اگست کو ریڈیو پر یہ خبر نشر ہوئی کہ ٹیری فاکس کی مصنوعی ٹانگ کا اسپرنگ ٹوٹ گیا ہے جس کی وجہ سے وہ ناقابل استعمال ہوگئی ہے۔ ایک مکینک  جو ایک گاؤں میں یہ خبر سُن رہا تھا اپنے اوازر لے کر سڑک پر پہنچ گیا اور نوے منٹ کے اندر مصنوعی ٹانگ کو مرمت کرکے ٹیری فاکس کو دوبارہ دوڑنے کے قابل بنا دیا۔

ٹیری فاکس کے بقول اُن کے لیے سب سے زیادہ جذباتی لمحہ صوبہ انٹاریو کے شہر ٹیرس بے میں آیا جب ہڈیوں کے کینسر میں مبتلا اور ایک ٹانگ سے محروم  ,دس سالہ گریگ اسکاٹ نے چھ میل تک ٹیری فاکس کے پیچھے پیچھے اپنی سائیکل چلائی۔

یکم ستمبر 1980ء کو جب ٹیری فاکس تھنڈر بے Thunder Bay پہنچے تو ڈاکٹروں نے ،اُن کی تشویش ناک حالت کی بدولت یہ دوڑ زبردستی رکوادی۔  وہ اُس وقت تک پانچ ہزار تین سو تہتر کلومیٹردوڑ چکے تھے اور اس دوڑ نے اُن کی صحت پر بہت برا اثر ڈال تھا اوراُن کی  حالت انتہائی بگڑ گئی تھی۔9ستمبر 1980ء کوایک ٹی وی چینلCTV نے ٹیری فاکس سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنی خصوصی نشریات پیش کیں جس دوران 10.5ملین ڈالر اکٹھے کیے گئے۔ فروری 1981میں بلآخر ٹیری فاکس کا ہدف 24ملین ڈالر حاصل ہوگیا۔

ٹیری فاکس 21جون 1981ء کو اس دارِ فانی سے 22 سال 11ماہ کی عمر میں، اپنی دوڑ مکمل کئے بغیر اس دُنیا سے  کوچ کرگئے۔

کیسنر کے ایک اور مریض اسٹیو فونیو Steve Fonyo کو بھی ٹانگ میں کینسر تھا، تاہم اُن کی ٹانگ کاٹنے کی وجہ سے ، کینسر اُن کے باقی جسم میں نہیں پہنچ سکا تھا۔ اُنہوں نے مصنوعی ٹانگ لگا کر ٹیری فاکس کی نامکمل دوڑ کو 1984 اور 1985 میں مکمل کیا۔

ٹیری فاکس کا دوڑنا ایک عام دوڑنا نہیں تھا۔ اُن کی اس دوڑ کی وجہ سے لوگوں میں کینسر کے بارہ میں آگہی ہوئی، بہت سی کمپنیوں نے اس کا علاج تلاش کرنے کے لئے ریسرچ میں بڑی بڑی رقوم عطیہ کیں، لوگوں میں کینسر کی وجوہات اور ان سے بچاؤ کا شعور پیدا ہوا۔ ماہرینِ طب کی توجہ اس کا علاج ڈھونڈنے میں بڑی شدت کے ساتھ پیدا ہوئی اور چند سالوں میں ہی کینسر کی کئی اقسام کا علاج ممکن ہوسکا۔ ٹیری فاکس کی جرات اور بہادری  نے پوری قوم کو ایک کردیا اور اُن کو یہ ہمت عطاء ہوئی کہ اکٹھے مل کر کسی ناممکن کام کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

ٹیری فاکس کو کینیڈا کے سب سے بڑے اعزا ز’’آرڈر آف کینیڈا ‘‘ سے نواز گیا۔وہ یہ اعزاز پانے والے  کم عمر ترین شخص ہیں۔ 

ٹیری فاکس کے اعزاز میں ، کینیڈا میں 32 سڑکیں اور ہائی ویز، 14 اسکول، 14 سرکاری عمارات،  9 صحت کے مراکز، ایک پہاڑی سلسلہ، ایک صوبائی پارک، ایک برف توڑنے والا بحری جہاز اور دوسرے کئی مقامات ٹیری فاکس سے منسوب کردیئے گئے ہیں۔  اُن کے آٹھ مجسمے ، کینیڈا کی اہم عمارات  بشمول پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے لگائے گیے ہیں۔محکمہ ڈاک نے اپنا قانون (کہ کسی شخص کے اعزاز میں اُس کی وفات کے دس سال بعد ہی کوئی ٹکٹ طبع ہوسکتا ہے) تبدیل کرکے 1981 میں ٹیری فاکس کے اعزاز میں ٹکٹ جاری کیا۔  برطانوی راک اسٹار راڈ اسٹیوارٹ کا نغمہ “Never Give Up on a Dream” ٹیری فاکس کے لئے ہی گایا گیاتھا۔

اس عظیم  ہیرو  کی یاد میں آج ساٹھ سے زائد ممالک میں سالانہ دوڑیں منعقد کی جاتی ہیں۔