پاکستان کے معاشی مسائل اور ان کا حل

محمد سلطان ظفر

            ایک سوال آج کل بڑے تواتر سے کیا جارہا ہے کہ ’’برسوں کے گند کو صاف کرنے کے لئے عمران خان اور کیا کرے؟ ‘‘

اگرچہ یہ بات بالکل درست ہے کہ کہ برسوں کا گند، برسوں کی کرپشن، برسوں کا کینسر، پورے ملک میں ہر سطح پر ، ہر مقام پر تقریباً ہر شخص میں سرایت کرچکا ہے۔ اور بہت کم لوگ رہ گئے ہیں جو اس سے سوفیصد بچے ہوئے ہوں یا بچ سکتے ہیں۔ لیکن کچھ ایسے اقدام تھے یا ہیں جو عمران خان فوری طور پر کرسکتا تھا اور کرنے چاہیے تھے یا اب فوراً ہونے چاہیے۔

            پاکستان کا اس وقت سب سے اہم ترین مسئلہ پاکستان میں میں ڈالر کی کمی ہے جس کی وجہ سے قرضوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے اور مہنگائی عوام کو رولارہی ہے۔

             ڈالر کی کمی کیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجوہات دو ہیں

            پہلی وجہ یہ ہے کہ  بیرونِ ممالک کو بیچے گئے مال سے جو ڈالر ملتے ہیں وہ اتنے زیادہ نہیں ہوتے کہ ان سے خریدے ہوئے مال کی ادائیگی کی جاسکے لہذا اس کمی کو قرض لے کر پورا کیا جاتا ہے۔ اس کا حل انتہائی مشکل ہوچکا ہے کہ کیسے وہ مصنوعات بنائی جائیں جو بیرون ملک بھیج کر مزید ڈالر کمائے جائیں ۔ یا بیرونِ ملک سے کیسے خریداری کم کردی جائے؟ اس کے لئے بہت وقت کی ضرورت ہے اور یہ چند ماہ یا چندہ سالوں میں ممکن نہیں۔ اس کے لئے پانچ سے دس سالوں کا پلان چاہیے اور اس پلان پر عمل کرنے کے لئے اخلاص، محنت اور ایمانداری کی ضرورت ہے جو ایک کرپٹ معاشرہ کا ایک اور چیلنج ہے۔

            دوسری وجہ  کو سمجھنے کے لئے آپ کو انیس سو بانوے میں جانا ہوگا جب پاکستان میں صرف پاکستانی کرنسی کا استعمال ہوتا تھا اور ڈالر کی قیمت بمشکل بیس روپے تھے۔ بیرونِ ملک جانے کے لئے آپ کو بنک سے ڈالر خریدنے پڑتے تھے اور بنک مالیت کا اندراج پاسپورٹ پر کرتا تھا اور ائرپورٹ پر جاتے ہوئے پاسپورٹ پر اندارج ڈالرز اور موجود ڈالرز دکھانے پڑتے تھے۔

            پاکستان کی اس وقت کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ پاکستان میں ، دوسرے ممالک کی کرنسیوں کو استعمال کرنے کی بھی اجازت  ہونی چاہیے۔ یہ فیصلہ پاکستان کی معیشت کی تباہی کی بنیاد بنا۔ ڈالر ، پونڈ، ریال سڑکوں  کے تھڑوں پر بکنے لگے۔ لوگ کرپشن کے چھپائے ہوئے مال کو بیرونِ ملک کرنسی میں تبدیل کرکے
باہر لے جانے لگے اور پھر وہاں سے خود یا دوستوں یا ایجنٹوں کے ذریعہ اپنے نام پر بھجوانے لگے

کیوں کہ

ایک اور قانون بنادیا گیا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے کسی رقم کے بارہ میں نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ آپ نے کیسے کمائی۔

بڑی مالیت کے نوٹ چھپنے لگے، پانچ سو  کا نوٹ تو اسی کی دہائی کے آخر میں آگیا تھا اب ہزار کا نوٹ بھی چھپنے لگا۔ (بعد ازاں پانچ ہزار کا نوٹ بھی آگیا)   رشوت کے ایک لاکھ چھپانے کے لئے پہلے بریف کیس، سوٹ کیس وغیرہ کا رِسک لینا پڑتا تھا اب ایک لاکھ ایک جیب میں آجاتے ہیں۔

حل

            اب ایسے حل کی طرف آتے ہیں جو فوری طور پر روپے کو استحکام بخش سکتا ہے (اگر چہ غیرمستحکم روپیہ ہی اکثر سیاستدانوں، ان کے ناخداؤں اور بیورکریٹ کو مفید ہے) ۔   مندرجہ ذیل قوانین تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ اکثر مغربی ممالک میں کامیابی کے ساتھ موجود ہیں ۔

پاکستان میں صرف پاکستانی کرنسی استعمال ہو اور ہر دوسری کرنسی پر پابندی ہو۔ جن کاروباری حضرات نے بیرونِ ملک ادائیگی کرنا ہوں وہ بنک کے ذریعہ کریں۔ اس سے ڈالر کی طلب کم ہوگی اور روپیہ کی زیادہ۔ اور طلب اور رسد کے قانون کے تحت ڈالر کی قیمت کم ہوجائے گی

پاکستان میں ہونے والے تمام سودوں کی مالیت اور ادائیگی  پاکستانی روپے میں ہو نہ کہ ڈالرز میں۔ اس وقت کئی ایسے سرکاری معاہدے ہیں جن میں پاکستانی حکومت، پاکستانی کمپنیوں کو بھی ڈالرز میں ادائیگی کی پابند ہیں۔

سوروپے سے بڑی مالیت کے تمام نوٹو ں پر فی الفور پابندی لگادی جائے اور جن کے پاس بڑی مالیت نوٹ ہیں ان کو صرف ایک ہفتہ کی مہلت دی جائے کہ وہ اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروالیں اور اگر یہ رقم پانچ لاکھ سے زائد ہو تو بتائیں کہ یہ رقم کہاں سے حاصل کی اور اگر حق حلال کی ہے تو کیا ٹیکس ادا کیا ہے؟  کینیڈا میں سو ڈالر سے بڑی مالیت کا نوٹ صرف بنک سے ملتا ہے وہ بھی آرڈر کرنا پڑتا ہے۔ اور عام دکانوں وغیرہ پر سو ڈالر کا نوٹ استعمال بھی نہیں ہوتا بلکہ اکثر گیس اسٹیشن (پٹرول پمپس) پچاس ڈالر کا نوٹ بھی نہیں لیتے۔

ایک لاکھ روپے سے زائد کا لین دین صرف اور صرف بنک اکاؤنٹ کے ذریعہ ہو۔ کینیڈا میں دس ہزار ڈالر یا زائد کی کیش کی صورت میں وصولی (حتیٰ کہ بنک میں جمع کروانے ) کے بارہ   میں لازم  ہے کہ حکومتی ادارہ کو مطلع کیا جائے۔ خواہ خریدار نے وہ رقم حق حلال طریقہ سے کمائی ہو۔

(بیرونِ ملک آمدنی کو اپنے سالانہ ٹیکس میں بیان کرنا  لازم ہو۔(یہ بھی کینیڈا کا قانون ہے

جائیداد کی مالیت کا تعین شہری حکومت کرے اور خرید و فروخت کے وقت اسی کی بنیاد پر ٹیکس لگایا جائے خواہ اس سودے کی مالیت اس سے کم ہو یا زیادہ ۔ مثلا اگر گھر کی قیمت اگر دس لاکھ ہے تو خرید و فروخت کے مطابق دس لاکھ  پر  واجب ٹیکس قابلِ ادا ہو، وہ گھر بے شک ایک ہزار میں بیچا جائے یا ایک کروڑ میں۔

ہر پاکستانی کے لئے لازمی ہو کہ وہ ہر سال ٹیکس فائل کرے۔ اس  کے نتیجہ میں جو امیر ہوں گے وہ تو ٹیکس دیں گے اور جو غریب ہوں گے حکومت ان کی شناخت کرکے ان کی مالی مدد کرسکے گی۔ اس طرح غریبوں کی مدد خود کار طریقہ سے ہوگی اور سفارش رشوت کا قلع قمع ہوجائے گا۔ یعنی اگر کسی نے بے نظیر فنڈ سے مدد لینی ہے تو سسٹم خودکار طریقہ سے اس شخص کے ٹیکس ریٹرن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس کے لئے طے شدہ حصہ اس کے اکاؤنٹ میں جمع کروادے گا۔ مثلاً اگر حکومت یہ طے کرتی ہے کہ پانچ افراد کے خاندان کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے کم ہے لہذا اس کو مالی امدا ملنی چاہیے، تو ٹیکس ریٹرن فائل کرنے سے فرض کریں کہ دس لاکھ افراد خود کار طریقہ سے اس فہرست میں آجاتے ہیں تو حکومتِ وقت بجٹ میں مختص رقم (فرض کریں کہ دس کروڑ روپیہ) میں سے خود کار طریقہ سے برابر تقسیم کرکے سب غرباء کو دے دے گی۔ اس  کے لئے نہ تو کسی سفارش کی ضرورت ہوگی اور نہ کسی افسر کی تصدیق۔ اس میں فراڈ سے بچنے کے لئے دس فیصد افراد کا آڈٹ کیا جائے کہ واقعی انہوں نے اپنی آمدنی درست لکھوائی ہے۔ اور جن لوگوں نے غلط بیانی کی ہو ان کو پہلے سے طے شدہ سخت سزائیں دی جائیں۔ مثلاً سخت جرمانہ، قید اور اگلے دس سال تک ہر سال ٹیکس کا آڈٹ وغیرہ۔ ( کینیڈا کی مثال پھر دیتا ہوں جن لوگوں کی آمدنی کم ہوتی ہے حکومت خود کار طریقے سے ان کے بجلی کے بل کی ادائیگی کے لئے کچھ رقم بطور امداد ارسال کردیتی ہے۔ ٹرئیلیم  ہیلتھ والے اس کی ووائیوں کی ادائیگی کردیتے ہیں، تعلیم کے لئے قرضہ زیادہ مل سکتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔  آپ نے کوئی بھی امداد لینے کے لئے صرف گذشتہ سال کے ٹیکس ریٹرن میں درج اپنی آمدنی کی رقم بتانی ہوتی ہے۔  ریونیو کینیڈا ہر سال پانچ سے دس فیصد ٹیکس ریٹرنز کا آڈٹ کرتا ہے اور غلط بیانی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور قید سزا ہوسکتی ہے۔)

حکومت اور عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حکومت کا کام نوکریاں دینا نہیں ہوتا بلکہ ہر قسم کی صنعتوں کو ترقی دینا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ملازمتیں پیدا ہوں اور  تاہم  حکومت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ان ملازمتوں کو حاصل کرنے کے لئے  عوام کو مناسب تعلیم اور مہارت  مہیا کرنے کا انتظام کرے۔

آخر میں یہی عرض کرنا ہے کہ پاکستان میں معاشی نظام کی درستگی کے لئے کوئی نیا نظام ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ دُنیا میں اکثر ممالک میں  جو نظام چل رہا ہے اس کو نقل کیا جاسکتا ہے۔ مگر اس میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ عناصر ہیں جن کے لئے کرپشن کے دروازے بند ہوجائیں گے  اور بدقسمتی سے وہ عناصر ہر حکومت کی طرح موجودہ حکومت میں بھی موجود ہیں۔  اللہ تعالیٰ اس ارضِ پاک کو ان کرپٹ عناصر سے پاک فرمائے۔ آمین۔