قیام پاکستان کی وجہ اسلام یا مسلمان؟

محمد سلطان ظفر

چودہ اگست  کو یوم آزادی پاکستان منایا جارہا ہے۔ اللہ کرے کہ ہمارا ملک پاکستان اپنے وسائل کو بھرپور طریقہ سے استعمال کرتے ہوئے، کرپشن سے پاک، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے والا اور مذہبی رواداری کا حامل ملک بن جائے۔آمین

            پاکستان میں وقت کے ساتھ ساتھ کئی حقائق تبدیل کردئیے گئے  اور کئی نئے قصے تاریخ میں شامل کردئے گے۔ ان میں سے چند کا ذکر کرنا ضروری ہے۔

            تحریکِ آزادی پاکستان

            ہندوستان کی انگریز حکومت سے آزادی کا آغاز  تو 1857  (جب انگریزوں کی ہندوستان پر باقاعدہ حکومت کا آغاز ہوا تھا) سے ہی شروع ہوگیا تھا اور کئی گروپوں نے مختلف ادوار میں سیاسی سرگرمیو  ں  یا مسلح کارروائیوں کے ذریعہ آزادی کی کوششیں کرتے رہے۔ وقت کے ساتھ ان میں کمی یا زیادتی ہوتی رہی۔ جنگِ عظیم اوّل کے بعد برطانوی حکومت کا زیرقبضہ ملکوں پر کنٹرول کچھ کم ہونا شروع  ہوگیا اور جنگِ عظیم دوم میں برطانیہ کی اندرونِ ملک تباہی و بربادی نے ہندوستان جیسے ملک کے اندر آزادی کی تحریک کو مزید تیز کردیا جہاں سیاسی جماعتوں نے برطانیہ کی کمزور پڑتی عالمی گرفت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سرگرمیاں مزید تیز کردیں جس کے نتیجہ میں حکومتِ وقت کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا کہ وہ مقبوضہ ممالک کی بجائے اپنے ملک کی داخلی حالت پر بھرپور توجہ دے۔

            قائدِ اعظم کی دوربین نظروں نے بھانپ لیا تھا کہ اگر ہندوستان کو آزادی ملتی ہے تو یہاں جمہوری حکومت کا قیام ہوگا اور ہندوں کی بھاری اکثریت ہمیشہ حکومت میں رہے گی اور مسلمان کبھی بھی حکومت بنانے کے قابل نہیں ہو سکیں گے۔ جس کے نتیجہ میں وہ معاشی اور سیاسی لحاظ سے دوسرے درجہ کی قوم ہی رہے گی۔ نیز ان کو اسلامی شعائر پر عمل کرنا بھی دوبھر ہوجائے گا۔اور چونکہ مسلمانوں سے یہ توقع تو نہیں کی جاسکتی تھی وہ اپنا مذہبی تشخص چھوڑ کر ہندوانہ رسم و رواج اختیار کرلیں گے لہذا اختلاف کی یہ خلیج وقت کے ساتھ بڑھنے کا امکان تو ہوسکتا تھا کم ہونے کا نہیں اور یہی وجہ قائداعظم کے دوقومی نظریہ کا باعث بنی۔

            اس پس منظر میں اس بات کو بہت اچھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ

پاکستان کا قیام  اس خطہ کے مسلمانوں کے لئے تھا کہ وہ آزادی سے اپنی مذہب پر عمل پیرا ہوسکیں   اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو وہ حقوق دیں جو ہندوں کے ملک میں مسلمانوں کو نہیں ملنے تھے۔ اس کے قیام کا یہ مقصد نہیں تھا کہ ایک ایسا اسلامی ملک بنایا جائے جہاں رہنے والے صرف اسلام قبول کرکے ہی رہ سکتے ہیں۔

             قیامِ پاکستان میں سب سے زیادہ سرگرم سیاسی جماعت مسلم لیگ کے جھنڈے کا رنگ سبز تھا جو مسلمانوں کی نمائندگی کرتا تھا۔ اور جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا اس میں پچیس فیصد سفید رنگ کا اضافہ کیا گیا جو اقلیتوں کی نمائندگی کرتا تھا۔ ہمارے جھنڈے کا ڈیزائن بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہمارا ملک سب پاکستانیوں برابر ہیں، کے فلسفہ پر بنایا گیا تھا۔

            قیامِ پاکستان کے بارہ میں ایک اور غلط فہمی بڑے زور شور سے پھیلائی جاتی ہے کہ اس کا قیام چودہ اگست کو عمل میں آیا تھا یا پندرہ اگست انیس سو سنتالیس کو۔ اور اکثر دانشور یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر تربوز کے دو حصے کئے جائیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک حصہ چودہ تاریخ کو کاٹا گیا اور دوسرا حصہ پندرہ تاریخ کو؟ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ یہ مثال ہی غلط ہے۔ ہندوستان کو  تربوز کی طرح کاٹا نہیں گیا تھا بلکہ اس وقت کی حکومت برطانیہ نے پاکستان اور بھارت کی مجوزہ حکومتوں سے صلاح مشورہ کرکے یہ طے کیا تھا کہ چودہ اگست انیس سنتالیس کو پاکستان کی آزادی کی تقریب ہوگی جس میں پاکستانی مجوزہ علاقوں کی حکومت باقاعدہ طور پر نئے گورنر جنرل قائداعظم محمدعلی جناح کے سپر کی جائے گی۔ اور پندرہ اگست کی تقریب میں بھارت کو عنانِ حکومت سونپ دی جائے گی۔  اس بارہ میں یوٹیوب پر قیام پاکستان کی چودہ اگست کو آزادی کی تقریبات کی برطانوی خبر کی وڈیو بھی موجود ہے۔

            یاد رہے کہ تقسیم ہندوستان سے قبل اس خطہ کا نام ہندوستان تھا مگر تقسیم کے بعد اس ہندو اکثریتی علاقے کو بھارت (اور انگریزی میں انڈیا) جبکہ مسلم اکثریتی علاقے کو پاکستان (مشرقی پاکستان  اور مغربی پاکستان) کا نام دیا گیا۔ آج کے دور میں بھارت کو ہندوستان کے نام سے پکارنا درست نہیں ہے۔ ہندوستان سے مراد پورا خطہ ہے جبکہ بھارت سے مراد آج کا بھارت یا انڈیا ہے۔

            یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی  نہ ہوگی کہ اگرچہ پاکستان اور بھارت کو  آزادی تو انیس سو سنتالیس میں مل گئی تھی مگر ان ممالک پر برطانوی راج بذریعہ گورنر جنرلز رسمی طور پر قائم رہا۔ انیس سو پچاس میں بھارت  اور انیس سو چھپن میں پاکستان میں نئے آئین نافذ ہوئے تو برطانوی راج مکمل طور پر ختم ہوئے۔

            تقسیم پاکستان کے وقت برطانوی حکومت کی خواہش تھی کہ دونوں ممالک کا گورنر جنرل ایک ہی ہو تاکہ وسائل اور خزانہ کی تقسیم سہولت سے ہوسکے۔ اس سلسلہ میں لارڈ ماونٹ بیٹن کو مقرر کیا گیا مگر قائداعظم (جو اپنی طبی حالت سے آگاہ تھے کہ ان پاس زیادہ وقت نہیں )  نے  اس تجویز کو ردّ کردیا جبکہ بھارت نے قبول کرلیا۔ اس طرح بھارت کے گورنر جنرل لارڈ ماونٹ بیٹن مقرر ہوئے اور پاکستان کے قائد اعظم۔ تاہم اس وجہ سے پاکستان کو وسائل  اور خزانہ کی تقسیم میں زبرست نقصان اٹھانا پڑا ۔ یہاں تک کہ  موہن داس گاندھی المعروف مہاتما گاندھی کو پاکستان کے حق میں بھوک ہڑتالیں کرنا پڑیں اور بالآخر ان کو پاکستان کے حق میں بات کرنے پر قوم پرست ہندوں نے قتل کردیا۔

            آزادیِ پاکستان کے مخالف مسلمان مذہبی رہنماؤں نے قائدِ اعظم کی وفات کے بعد ہندوستان چھوڑ کر پاکستان میں سکونت اختیار کرلی اور اپنا سیاسی ایجنڈا  نئے سرے سے مذہبی پلیٹ فارم پر آگے بڑھانے لگ گئے۔

            تقسیم ہندوستان کے وقت بنگال میں مسلمانوں  کی بھاری اکثریت تھی لہذا فارمولے کے تحت بنگال کی بطور مشرقی پاکستان، پاکستان میں شمولیت بغیر کسی دقت کے ممکن ہوگئی تاہم بلوچستان، سوات، بہاولپور اور قبائلی علاقوں میں مختلف قسم کے طرزِ حکومت ہونے کی وجہ سے یہاں کے نوابوں اور خانوں نے بڑی کڑی شرائط پر پاکستان میں شمولیت کے لئے حامی بھری۔ اور قیام پاکستان کے بعد جب ان شرائط پر عمل نہیں کیا گیا تھا ان کے کئی گروہ  اب سیاسی یا مسلح گروپوں کے ذریعہ ان شرائط کا نفاذ چاہتے ہیں۔

            قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے بنگالی عوام کی خواہش کے برعکس صرف اردو کو قومی زبان قراردیا جس سے مشرقی پاکستان کے دِلوں میں ایک دراذ ضرور آگئی کیوں کہ اس وقت مغربی اور مشرقی پاکستان  میں بنگالی بولنے والے سب سے زیادہ تھے۔ اور ان کا خیال اور مطالبہ یہ تھا کہ بنگالی کو قومی زبان ہونا چاہیے یا اردو اور بنگالی دونوں کو قومی زبان قرار دیا جانا چاہیے۔

            انیس سو اکہتر کے انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان  کی کامیاب سیاسی جماعت کو اقتدار نہ دیا گیا تو انہیں نے ایک بار پھر آزادی کا اعلان کردیا۔ اس بار بھارتی حکومت نے ان کی بھر پور مدد کی اور یوں بنگلہ دیش معرضِ وجود میں آیا۔

            مغربی پاکستان  اب پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشہ پر ابھر چکا ہے اور ان شاء اللہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔اللہ کرے کہ اس میں انصاف، رواداری اور ایمانداری کے عناصر ہمیشہ نمایاں رہیں۔ آمین۔