’’ اب نہ بولو گے تو کاغذ کربلا ہوجائے گا‘‘

تحریر اصغر علی بھٹی نائیجر مغربی افریقہ

             ہندوستان کی سرزمین پر دارلعلوم دیوبند میں 10 دسمبر2018 کی دوپہرکو گزرنے والے ایک منظر نے میرے لئے بہت سی الجھنوں کے در کھول دئیے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ

دس دسمبر 2018 کو عیسائی پادریوں  کےایک گیارہ رکنی وفد نے دارلعلوم دیوبند کا دورہ کیا ۔ نفری اسدس وفد میں ہندوستانی کیتھولک عیسائیوں کے اعلیٰ مذہبی قائد بشپ فادر جان باسکو،ہندوستان کے کانونٹ اسکولوں کے مذہبی سربراہ  اور کیتھولک بشپ کانفرنس کےقومی سیکرٹری فادر نکولس برلا،فادر میکائیل ، فادر ٹی کے جوہن ،ڈاکٹرڈنزائل فرنانڈیز، ڈاکٹر ونسنٹ ایکا، سسٹر ببیتا،سسٹر رانی وغیرہ شامل تھے۔ جناب عارض محمد صاحب حیدرآبادی کی راہنمائی میں یہ وفد دارلعلومآیا۔وفد نے مولانا عبدالخالق سنبھلی نائب مہتم دارلعلوم سے تبادلہ خیال کیا ۔  وفد نے ظہر کی نماز میں شرکت کی خواہش ظاہر کی ،چنانچہ نائب مہتمم صاحب کی اجازت سے  ا ن حضرات نے دیگر تمام مصلیان کے ساتھ مسجد قدیم میں ظہر کی نماز باجماعت میں شرکت کی

( ماہنامہ دارلعلوم  جنوری 2019  زیرعنوان احوال و کوائف از مولانا محمد اللہ قاسمی  شعبہ انٹر نیٹ دارلعلوم دیوبند ص 51 )

            دل ماروشن چشم ماشاد ۔ جی آیاں نوں اور ست بسم اللہ ۔بات بھی خوشی کی تھی اور آپ نے خوشی کے ساتھ ہی اپنے سرکاری ماہنامہ میں اس کو دنیاکے سامنے پیش کیا۔لیکن کیا کریں اس دل وحشی کا جسےگیارہ رکنی  پادریوں کےوفد کو دارلعلوم دیوبند کی جامع مسجد میں ظہرکی نماز پڑھتے دیکھ کر کچھ پاکستانی کرم فرما یاد آگئے ۔کچھ دلازاریوں کے قصے ہویدا ہوگئے ، توبہت سی گرفتاریوں کی کسک ٹیسیں مارنے لگیں۔ایبٹ آباد کی حوالات اورمانسہرہ کی جیل  کے فرش پر گزاری اداس شامیں یاد آگئیں تو عقوبت خانوں سے جڑی ڈھیروں ڈھیر ایف آئی آرزکی کہانیوں نے مہاجرسفری پرندوںکی طرح دل ناتواں کی سرزمین پرغول در غول اترنا شروع کر دیا ۔ یقیناً ہندوستان میں توآپ نے پادریوں کو مسجد میں باجماعت نمازپڑھنےکی اجازت دی  اور اس پر بہت خوش ہیں کہ گیارہ غیر مسلموں       نے  نماز ادا کی وہ بھی ہماری مسجد میں، لیکن میں اُن دکھوں اور اذیتوں کاکیا کروں جو میں نے اور میرے خاندان نے اور میری جماعت نے’’ پاکستان کےسرکاری کافر‘‘ ہونے کے بعدآپ کےپاکستانی دارالعلوم والوں سےصرف السلام علیکم کہنے پر بسم اللہ لکھنے پراور کلمہ پڑھنے پر اور نماز پڑھنے پروطن عزیزکی جیلوں میں برداشت کیں۔اور کر رہے ہیں۔

            دکھ تو یہ ہے کہ ہندوستان میں پادریوں نے مسجد میں ظہر کی نمازپڑھی تو خوشی کے شادیانے اور جب پاکستان میں کوئی احمدی نماز پڑھتا ہے توایف آئی آر میں درج ہوتا ہے کہ اس نے  نماز پڑھ کر ہماری دل آزاری کی اور اس حوالے سے  بڑے عجیب عجیب واقعات رپورٹ ہوئے  ہیں۔

            مثلا پسرور  میں وقوعہ کی ایف آئی آر یوں درج کروائی گئی ملزم  اپنی عبادت گاہ میں لائوڈاسپیکر پر مسلمانوں کی آذان والے الفاظ دہرا رہا تھا جسے موقعہ پرپہنچ کر روک دیا گیا ورنہ عین ممکن تھا کہ ملزم ساری آذان دےجاتا۔مانسہرہ میں رانا کرامت اللہ صاحب کے خلاف مولوی صاحب نے  رپورٹ درج کروائی کہ  اس نے سر بازار سب کے سامنے مجھے السلام علیکم کہا ہے جس سے میری دل آزاری ہوئی ہے۔تھانیدار صاحب نے رانا کرامت اللہ صاحب کو تھانےبلایا  ایف آئی آر درج کی حوالات میں بند کیا اور ساتھ ہی نصیحت بھی کہ آئندہ جب یہ  مولوی صاحب نظر آئیں تو لعنت اللہ کہنا  السلام علیکم نہیں ۔

            ’’ننکانہ صاحب کے ایک قادیانی ناصراحمد نے اپنی بیٹی کی شادی کےلیے دعوتی کارڈچھپوایا جس پر بسم اللہ الرحمن  الرحیم۔السلام علیکم۔انشاء اللہ اور نکاح مسنونہ کے الفاظ درج تھے۔مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے ناظم اعلیٰ نے تعزیرات پاکستان دفعہ295Aاور دفعہ298Cکے تحت نہ صرف ناصراحمد بلکہ ان کی بیگم،سرفراز احمد،اعجاز احمداوران کے خاندان کےدیگر افراد کے خلاف اسلامی شعائر کے ناجائز استعمال کے الزام میں مقدمہ درج  کرادیا۔ پولیس نے ناصر احمد کو گرفتار کرلیا باقی’’ملزمان‘‘نے لاہورہائی کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں دائر کیں۔یہ مقدمہ ہنوزعدالت میں ہے۔‘‘

(روزنامہ پاکستان13اگست1992ءمضمون نگار اصغر علی گھرال)

            ’’منڈی بہائوالدین لیٹر پیڈ کے اوپر786چھپ جانے پر مقدمہ چل رہا ہے اس کےعلاوہ کلمہ طیبہ پڑھنے۔ کلمہ کا بیج لگانے اور درودشریف پڑھنے پرگرفتاریاں ہوئیں۔بدوملہی کے مسعود احمد کو سول جج نارووال کی عدالت سے2سال قید بامشقت اور2ہزار روپیہ جرمانہ کی سزا۔اس کے خلاف اذان دینے کاالزام تھا۔ملزم کے خلاف جو فرد جرم مرتب ہوئی وہ کچھ یوں تھی ملزم نےبلند آواز سے کہا کہ:’’اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سےبڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودنہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ۔نماز کی طرف آؤ۔نماز کی طرف آؤ۔ بھلائی کی طرف آؤ ۔بھلائی کی طرف آؤ۔اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘

(روزنامہ پاکستان اگست1992ءمضمون نگار اصغر علی گھرال)

            مورخہ5دسمبر1991ءکو مکرم خان محمد صاحب امیر جماعت احمدیہ ڈیرہ غازی خاں اور مکرم رفیق احمد صاحب نعیم کے خلاف قرآن مجید کا سرائیکی زبان میں ترجمہ کرنے کی وجہ سے زیر دفعہ295Aتعزیرات پاکستان تھانہ ڈیرہ غازی خان میں ایک مقدمہ درج کیا گیا۔روزنامہ ڈان پاکستان کی26اپریل1992ءکی اشاعت کے مطابق یہ مقدمہ مولوی اللہ وسایا امیر مجلس ختم نبوت ڈیرہ غازی خان کی درخواست پر درج کیا گیا۔اس نے اپنی درخواست میں لکھا کہ قادیانیوں کو کافر قرار دیا جاچکا ہے مگر پھر بھی انہوں نے قرآن مجید کا سرائیکی زبان میں ترجمہ کرکے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔

            ٹنڈو آدم تھانہ میں ایک اور مقدمہ مولوی احمد میاں حمادی  صاحب نے رسالہ ماہنامہ انصاراللہ کے ایڈیٹر مرزامحمددین صاحب ناز، پبلشرچوہدری محمدابراہیم صاحب، پرنٹر قاضی منیر احمد صاحب او رمینجررسالہ انصار اللہ کے خلاف زیر دفعہ298Cاور 295Cتعزیرات پاکستان11ستمبر1990ءکو دائر کیا۔مولوی حمادی صاحب نے اپنی تحریری درخواست میں لکھا کہ مورخہ21-03-90کو مجھے ڈاک کے ذریعہ ایک لفافہ ملا جس میں   ہلکے سبز رنگ کا کارڈ تھا۔اوپر بسم اللہ الرحمن الرحیم  نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم لکھا ہوا تھا اور نیچے منیجر ماہنامہ انصار اللہ کے دستخط تھے۔اس طرح رسول اللہ کی بے حرمتی کی ہے۔نیز بسم اللہ شریف لکھ کر خود کو مسلمان ظاہر کیاہے اور میرے مذہبی جذبات مجروح کئے ہیں لہذا298Cاور295Cتعزیرات پاکستان کے تحت قانونی کارروائی کی جائے۔

            اور تو اورموٹر سائیکل پر آیات قرآنی کا سٹکر چسپاں کرنے پر توہین رسالت کامقدمہ ۔مکرم ظہور احمد ولد انور حسین اور مکرم نور حسین ولد مولوی محمدانور ساکنان انور آباد ضلع لاڑکانہ کے خلاف موٹر سائیکل پر’’الیس اللہ بکاف عبدہ‘‘ کا سٹکر چسپاں کرنے پرمورخہ12نومبر1995ء کو زیر دفعات 295A،298Cاور295Cتعزیرات پاکستان ایک مقدمہ نمبر80تھانہ وارہ ضلع لاڑکانہ  میں  درج ہوا جو مولوی محمد صدیق امام مکی مسجد وارہ کی درخواست پر درج ہوا۔مولوی محمد صدیق نے پولیس کو درخواست دیتے ہوئے لکھا:’’ظہور احمد ولدنور حسین ذات ابڑو اور نور حسین ولد محمد انور ذات ابڑو ساکنان انورآباد تعلقہ وارہ جو سکول کے باہر شہر وارہ کے مین چوک میں   ایک موٹر سائیکل پر سوار ہوکر آئے ہیں ان کی موٹر سائیکل کے میٹر کےاوپر قرآن پاک کی ایک آیت شریف الیس اللہ بکاف عبدہ لکھی ہوئی ہے۔چونکہ دونوں اشخاص قادیانی ہیں اور اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں اور کافر ہیں ان کو قرآن پاک کی آیت لکھنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ یہ قرآن پاک کی بے حرمتی ہے۔ وارہ تھانہ اطلاع کرنے آیا ہوں کہ آپ ان مجرموں کوگرفتار کریں اور موٹرسائیکل کے میٹر پر قرآن پاک کی آیت تحریر شدہ ہےاس کو اپنی تحویل میں لیں اور دونوںمجرموںکو قانون کے مطابق دفعہAC295,298اورC295تعزیرات پاکستان کے مطابق سزا دلوائیں‘‘۔اس کی درخواست پر سنئیر سپرنٹنڈنٹ پولیس لاڑکانہ نے بذریعہ چٹھی نمبر143554.11.95،مقدمہ درج کرنے کا حکم صادر فرمایا۔چنانچہ مورخہ12نومبر1995ء کودونوں احمدیوںپر مقدمہ کا اندراج ہوگیا۔

            ایک اورمولانا عبدالخالق سبحانی صاحب نے تو ایک قدم اور بھی آگے بڑھا دیا وہ فرماتے ہیں کہ ان سرکاری کافروں کے لئے ایک لباس بھی مخصوص کر دیا جائے۔چنانچہ آپ  نے 6اپریل تا13اپریل1988ء کے ہفت روزہ احسان میں ایک طویل مضمون لکھا اور اس میں حکومت سے استدعا کی کہ’’قادیانیوں کے تراجم قرآن پر پابندی لگائی جائے نہ ان کی روزمرہ رہن سہن میں شناخت کے لیے مخصوص لباس مقرر کیا جائے کلمہ طیبہ پڑھنے سے روک دیاجائے اور ان کی مساجد پر سے کھرچ دیا جائے۔ان سے ذمیوں والا سلوک کیا جائے۔‘‘اب الجھن میں پھنسا    بیٹھا   ہوں کہ پاکستان میں تو’’ سرکاری کافر‘‘ کی آذان پہ دل آزاری،نماز پہ دل آزاری،کلمہ پہ دل آزاری، پتہ نہیں کس کس بات پہ دل آزاری اور ہندوستان میں وہی مولوی صاحب ہیں اوروہی ان کا فرقہ ہے تو ہندو مشرک بھی بھائی بھائی۔بلکہ آئیے اور ہماری مسجد میں نماز پڑھئےبلکہ فرماتے ہیں مذہب بعد میں وطن پہلے۔ (ترجمان  16جنوری تا 30جنوری2016 ص 22 انڈیا)  کیا وہاںاقلیت ہونے  اور ہندو بلوائیوں کے خوف کی وجہ سے مذہبی فلسفہ بدل گیا ہے یا پاکستان میں اکثریت کے گھمنڈمیں مذہب بدل لیا ہے؟؟۔کچھ تو ہے۔ہم  بقول چوہدری محمد علی صاحب یہی کہیں گے سر بریدہ لفظ ہم سے رات یہ کہنے لگے
اب نہ بولو گے تو کاغذ کربلا ہو جائے گا