عدل و انصاف کی نادر مثال

(مرسلہ: مبشر احمد ، جرمنی )

(مکرم ومحترم ناصر بلوچ مرحوم کے بیان فرمودہ واقعات پر مشتمل کتاب ’’یادوں کے نقوش‘‘ سے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا ایک سبق آموز واقعہ)

یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ دُنیا میں اختلافات کا بنیادی سبب عدل اور انصاف کا فقدان ہے۔ اگر عدل قائم ہوجائے تو یہ دُنیا امن وآشتی اور پیارومحبت کا گہوارہ بن جائے۔

 میرے پیارے آقاحضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ہر معاملہ میں عدل وانصاف کو قائم رکھتے تھے۔ اس کا ایک نادر واقعہ، ایک مثالی اور یادگار لمحہ میری یادوں میں محفوظ ہے۔

ایک مفلس لیکن مخلص احمدی بھائی جو خاکسار کے عزیز تھے، کے گھر معمولی سی چوری ہوگئی جس کی تلاش دیاتی رواج کے مطابق جاری تھی۔ ایک دوست نے چور کو چوری شدہ چیز سمیت دیکھ لیا، گویا رنگے ہاتھوں پکڑلیا۔ انہوں نے ہمیں اطلاع دی۔ پتہ چلا کہ وہ چور ہمارے ایک معزز اور انہتائی صاحبِ حیثیت اور بااثراحمدی کا غیراحمدی ملازم ہے۔ ہمارے ساتھ احمدنگر کے چارپانچ معززین جن میں مکرم چوہدری عبدالراحمٰن صاحب کونسلر بھی شامل تھے، اس احمدی بھائی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کا ملازم ہمارا چور ہے۔ مہربانی فرما کر ہماری حق رسی فرمائیں۔ وہ صاحب ہماری بات ماننے کے لئے ایک لمحہ کے لئے بھی تیار نہ ہوئے کہ ان کا ملازم چوری کرسکتا ہے۔ ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں لیکن ناکامی ہوئی۔ آخر نظارت امورِ عامہ سے رجوع کیا۔ ان صاحب نے بدقسمتی سے امورِ عامہ سے بھی بے رخی برتی اور عدم تعاون کیا۔ اس پر نظارت نے پولیس کارروائی کا مشورہ دیا جس کی تعمیل میں پولیس چوکی میں درخواست دی گئی۔ وہاں بھی ان صاحب نے اپنے ملازم کو مکمل تحفظ دینا شروع کیا۔ اس پر معاملہ امورِعامہ کی طرف سے حضورِ انور کے علم میں لایا گیا۔ حضور نے ارشاد فرمایا کہ متعلقہ مسل اور فریقین کو مورخہ 3اگست 1970ء کو ساتھ لے کر حاضر ہوں۔ حسبِ ارشاد فریقین کے علاوہ محترم چوہدری عبدالعزیز صاحب بھامبڑی محتسب بھی مسل لے کر حاضر ہوگئے۔ حضور نے مسل ملاحظہ فرمائی۔ فریقین کا مؤقف سنا اور پھر دوسرے فریق کو جو مجھ ناچیز کے مقابلہ میں نہایت بااثر شخصیت تھے مخاطب ہوکر فرمایا: آپ دولت کے بَل بوتے پر غریب احمدی کے انصاف میں حائل ہیں۔

حضور کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار دیکھے تو وہ صاحب جو اتنے دنوں سے اڑے ہوئے تھے یکایک معذرت اور معافی پر اتر آئے۔ میں ان صاحب کے اخلاص اور خلافت کی اطاعت کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ باربار حضور سے معافی مانگتے رہے۔  خلیفۂ وقت جس کا  مقام  باپ کا ہوتا ہے نے جب محسوس فرمایا کہ  اب ان صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے تو فرمایا کہ آپ امورِ عامہ کے توسط سے مدعی فریق کو مبلغ ایک ہزار روپیہ ہرجانہ ادا کریں اور جس سے زیادتی کی ہے اس سے معافی مانگیں۔  حضورِ انور نے محترم مولوی بھامڑی صاحب سے فرمایا کہ شام تک اس فیصلہ کی تنفیذ ہوکر مجھے رپورٹ آنی چاہئے۔

یقین جانئے میری اپنی حالت غیر ہوچکی تھی۔ چند منٹ الگ نیچے بیٹھنے کے بعد استغفار کرتا ہوا احمدنگر پہنچ گیا۔ میرے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی یہ بات نہ تھی کہ میں نے ایک ہزارروپے جو اس زمانے کے حساب سے ایک بہت بڑی رقم تھی، لینے ہیں یا معافی منگوانی ہے۔ میں گھر پہنچا ہی تھا کہ نظارت امورِ عامہ کا بلاوا آگیا کہ فوراً دفتر آئیں تاکہ بعد از تنفیذ حضور کی خدمت میں رپورٹ بھجوائی جاسکے۔ امورِ عامہ کے حکم کی تعمیل میں دفتر پہنچا۔ کانپتے ہاتھوں سے رقم پکڑی۔ دودن نہایت اضطراب میں گزرے کہ ہمارے چھوٹے سے معاملہ کی وجہ سے حضور کو کس قدر کوفت اٹھانی پڑی، حضور کا کتنا قیمتی وقت ضائع ہوا اور اس احمدی دوست کو بھی (چاہے اپنی نادانی کی وجہ سے ہی) کتنی تکلیف اٹھانی پڑی۔ وقت گزرنے کے ساتھ میری پریشانی اور اضطراب بڑھتا گیا۔ آخر مجھ سے نہ رہا گیا اور میں حضورِ انور کی خدمت میں حاضر ہوا۔میں نے حضور کا شکریہ ادا کیا کہ ہمارے معمولی سے معاملے میں حضورِ انور نے نے اپنا قیمتی وقت عطاء فرما کر غریب احمدی کو انصاف دلایا۔ پھر ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں مَیں نے ایک ہزار روپے وصول کرلئے ہیں۔ اب اگر حضوراجازت مرحمت فرمائیں تو میں یہ رقم مذکورہ احمدی دوست کو واپس کردوں۔ حضور نے میری دلداری کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کا نقصان ہوا ہے آپ رقم رکھیں۔ میں پھر عرض کیا کہ اگر حضور مجھے دلی طورپر اجازت عطاء فرمادیں تو یہ بات میرے لئے باعث سکینت ہوگی۔ حضور مسکرائے اور فرمایا اچھا! اپنا نقصان رکھ لو اور زائد رقم واپس کردو۔ میں نے ہمت کرکے تیسری بار جسارت کی اور عرض کیا کہ حضور میرا نقصان اور ہرجانہ تو اسی دن ادا ہوگیا تھا جس دن حضور نے لامتناہی مصروفیات  سے وقت نکال کر غیرمعمولی شفقت، محبت اور انصاف کا اعلیٰ مظاہرہ فرماتے ہوئے خاکسار کے عزیز کے حق میں فیصلہ صادر فرمایا تھا۔ بالآخر حضور نے ازراہ شفقت بخوشی اجازت عنایت فرمادی اور فرمایا کہ رقم واپس دے آؤ لیکن واپسی پر مجھے اُن صاحب کے ردّعمل کی رپورٹ دے کر جانا۔

یہ واقعہ رات سات بجے کا تھا۔ سردیوں کے دن تھے۔ اسی وقت ایک دوست مکرم خواجہ مجید احمد صاحب کو ساتھ لے کر سیدھا ان کے گھر دارالرحمت میں حاضر ہوا اور میں نے معذرت کے ساتھ رقم واپس کردی ۔موصوف نے مثبت ردّعمل کے ساتھ رقم وصول کرلی ۔  چندمنٹوں میں ہم واپس آگئے اور حسبِ ارشاد رات آٹھ بجے کے قریب  حضور انور کی خدمت میں رپورٹ پیش کردی۔