ہجری شمسی تقویم – کیلنڈر

مغربیت کے عالمگیر ورثوں میں سے مروّجہ عیسوی سنہ بھی ہے جو دراصل قدیم رُومی کیلنڈر (Roman Calendar)ہے جسے پہلے اگسٹس (Augustus)  پھر جولین (Julian) نے ترمیم کیا اور جولین کیلنڈر کہلانے لگا۔ اس کے بھی کئی بار اس میں ترمیم کی گئی۔ آخری بار مارچ 1582ء میں پاپائے گریگوری سیز دہم (Pope Gregory XIII) کے حکم سے اس میں ترمیم ہوئی۔ جولین کے چھ سو سال بعد ایک عیسائی راہب ڈینس ایگزیگوس (Dionyosius Exiguus)   نے اس رومن کیلنڈر سے حضرت مسیح ؑ کی پیدائش کے زمانہ سے قبل کے سال خارج کرکے اسے مسیحی سنہ قرار دے دیا۔

جہاں تک اسلامی کیلنڈر کا تعلّق ہے، اس کا آغاز دوسرے خلیفہ راشد سیدّنا حضرت عُمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا۔

ہجری تقویم کی بنیاد چاند کی تاریخوں پر رکھی گئی تھی۔ مگر جیسا کہ قرآن مجید میں لکھا ہے کہ اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُبِحُسْبَان یعنی سورج اور چاند دونوں ہی حساب کے لئے مفید ہیں اور عقلی طور پر بھی اگر دیکھا جائے تو ان دونوں میں فوائد نظر آتے ہیں چنانچہ عبادتوں کو شروعی طریق پر چلانے کے لئے چاند مفید ہے۔چاند کے لحاظ سے موسم بدلتے رہتے ہیں اور انسان سال کے ہر حصّہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا قرار پاسکتا ہے۔ پس عبادت کو زیادہ وسیع کرنے کے لئے اور اس لئے کہ انسان پر اپنی زندگی کے ہر لحظہ کے لئے کہہ سکتے کہ وہ اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے گذارا ہے، عبادت کا انحصار قمری مہینوں پر رکھا گیا لیکن وقت کی صحیح تعیین کے لئے سُورج مفید ہے اور سال کے اختتام یا اس کے شروع ہونے کے اعتبار سے انسانی دماغ سُورج سے ہی تسلّی پاتا ہے۔

کئی مسلمان خلفاء اور بادشاہوں نے اسلامی تقوم کا آغاز کیا مگر وہ مستقل جاری نہ رہ سکا۔ احمدیہ مسلم جماعت کے دوسرے امام سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 1938ء میں اپنے ’’سیررُوحانی‘‘ والے مشہور سفر کےد وران جب دہلی میں رصدگاہیں اور جنترمنتر دیکھے تو اسی وقت سے تہیہ کرلیا کہ اس بارہ میں کامِل تحقیق کرکے عیسوی شمسی سنہ کی بجائے ہجری شمسی سنہ جاری کردیا جائے۔

حضرت خلفیۃ  المسیح الثانیؓ کی قائم کردہ کمیٹی کی تحقیق کے بعد  جاری فرمودہ تقویم ہجری شمسی کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں مہینوں کے نام ایسے مناسب تجویز کئے گئے جو اسلامی تاریخ کے مشہور واقعات کے لئے بطور یادگار تھے تا آنحضرت ﷺ کے فیضان اور دُنیا کے لئے دینِ کامل کی یاد قیامت تک ہرلحظہ تازہ ہوتی رہے۔

ماہ صُلح (جنوری):     اس مہینہ میں آنحضرت ﷺ ایک رؤیا کی بناء پر تین ہزار صحابہ کرامؓ کی معیت میں عمرہ کے لئے بیت اللہ شریف کی طرف روانہ ہوئے مگر کفّار قریش مزاحم ہوئے۔ اس وجہ سے حدییبہ کے مقام سے آپ کو واپس ہونا پڑا لیکن اس موقعہ پر ان لوگوں کے ساتھ آپ کا ایک صلح کا معاہدہ ہوگیا جس کا نام اللہ تعالیٰ نے فتح مبین رکھا ہے۔ اس صلح کے نتیجہ میں لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہونے شروع ہوگئے۔

ماہِ تبلیغ  (فروری):   اس مہینہ میں حضرت رسول کریم ﷺ نے بادشاہوں کی طرف تبلیغی خطوط ارسال فرمائے اور انہیں اسلام کی دعوت پہنچائی۔

ماہِ امان (مارچ):      اس مہینہ میں حجتہ الوادع کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے اعلان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانوں، تمہارے مالوں اور تمہاری عزّت و آبروہ کو ویسی حرمت بخشی ہے جیسی کہ اس نے حج کے دن کو، حج کے مہینہ کو اور حج کے مقام مکّہ معظّمہ کو حُرمت عطاء کی ہے۔

ماہِ شہادت (اپریل): اس مہینہ میں دشمنانِ اسلام نے دھوکہ اورغدّاری سے کام لے کر اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں یہ درخواست کرکے کہ ہمیں دینِ اسلام کی تعلیمات سکھانے لئے ہمارے ہاں معلِّم اور مبلّغ بھیجے جائیں اور اس طرح اکابرصحابہؓ کو اپنے ہاں بُلا کر بےدردی کے ساتھ شہید کیا اور ایک مہینہ میں دوبار یہ غدّاری کی۔ ایک تورجییع کے مقام پر جہاں آپؐ نے چھ یا سات اکابر صحابہ کرام کو بھیجا تھا جن میں سے ایک یا دو کو تو ان لوگوں نے پکڑ کر کفارِ قریش کے پاس جاکر بیچ دیا اور باقی سب کو شہید کردیا ۔ اوعر دوسرے بئرمعونہ کے مقام پر،جہاں آپؐ نے ابوبرآاکلابی رئیس بنی کلاب کی درخواست پر اور اس کی ذمہ داری پر 70 انصار کو جو نہایت مقدس لوگ اور قرآن کریم کے حافظ اور ماہر تھے، اُن لوگوں کی تعلیم و تربیت کی غرض سے بھیجا۔ اُن لوگوں نے سوائے ایک انصاری کے جسے وہاں کے سرادار نے ایک غلام کو آزاد کرکے متعلق اپنی ماں کی نذر پُوری کرنے کے لئے چھوڑدیا تھا باقی تمام کو شہید کردیا۔

ماہِ ہجرت (مئی):    اس مہینہ میں آنحضرت ﷺ نے مکّہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیّبہ میں قیام اختیار فرمایا۔

ماہ وفا  (جولائی):      اس مہینہ میں غزوہ ذات الرقاع ہوا تھا جس میں سفر کی شدّت اور سواری کی کمی کی وجہ سے پیدل چلنے کے باعث صحابہ کرامؓ کے پاؤں چھلنی ہوگئے اور صحیح بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہؓ کے تو پاؤں کے ناخن بھی جھڑگئے اور انہوں نے اپنے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر اور پاؤں پر لپیٹ لپیٹ کر اس کا راستہ طے کیا اور اسی وجہ سے اس مہم کا نام ذات الرقاع مشہورہو گیا اور اسی موقع پر صلٰوۃ الخوف کا حکم نازل ہوا۔ غرض اس جنگ میں بھی صحابہ کرامؓ نے خارق عادت طورپر اپنے صدق ووفا اور تسلیم ورضا کا نمونہ دکھایا تھا۔

ماہ ظہور(اگست) :  اس مہینہ میں جنگ موتہ کے سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے بیرونِ عرب میں اسلام کی اشاعت اور ظہوریعنی غلبہ کی بنیاد رکھوائی۔ اس واقعہ سے قبل آپ نے ہرقل کے مقررکردہ امیربصری کی طرف حضرت حارث ابن عمیرازدی ؓ کے ہاتھ ایک تبلیغی خط بھیجا تھا۔ جب وہ موتہ کے مقام پر پہنچے تو شرجیل غسّانی نے انہیں باندھ کر قتل کردیا جس پر حضورؐ نے اپنے آزادکردہ غلام حضرت زیدبن حارثہ ؓ کی امارت کے ماتحت تین ہزارصحابہ کرامؓ کی فوج وہاں بھیجی اور ارشاد فرمایا کہ اگر زیدبن شہید ہوجائے تو اس کی جگہ جعفرؓبن ابی طالب لے لے۔ وہ شہیدہوجائے تو عبداللہ بن رواحہؓ اس کی جگہ پر کھڑا ہوجائے اور وہ شہید ہوجائے تو مسلمان اپنے میں سے کسی کو امیر بنالیں اور اسی ترتیب سے وہ اس جنگ میں شہیدہوئے۔

ماہ تبوک (ستمبر):    اس مہینہ میں جنگ تبوک کے موقعہ پر مخلصین ک اخلاص کا مختلف صورتوں میں امتحان ہوا اور انہوں نے اپنے اپنے رنگ میں اعلیٰ سے اعلیٰ جوہرایمان دکھائے۔

ماہِ اخاء (اکتوبر):     اس مہینہ میں آنحضرت ﷺ نے مہاجرین اور انصار میں سے ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصاری کے درمیان خاص طورپر اخوت کا تعلق قائم کیا جس کے نتیجہ میں مہاجرین اور انصار کے تعلقات سگے بھائیوں سے بھی بڑھ کر ہوگئے۔

ماہِ نبوّت (نومبر):   اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو منصب نبوت و رسالت بخشا۔

ماہِ فتح (دسمبر) :      اس مہینہ میں فتح مکّہ کا عظیم الشان واقعہ پیش آیا اور اسی موقعہ پر آنحضرت ﷺ نے اپنے خونخوار دشمنوں کو لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ کہہ کر عفوِ عام کا اعلان فرمایا۔

            ہجری شمسی تقویم (کیلنڈر)   کی پہلی اشاعت 1319 ھش بمطابق 1940 عیسوی میں نظارت دعوت و تبلیغ کے شعبہ نشرواشاعت کے تحت ہوئی۔ اس کیلنڈر میں ہجری شمسی، ہجری قمری اور عیسوی، تینوں سنہ شامل تھے اور دن، مہینے اور سال اردو اور انگریزی میں لکھے گئے۔ اس کیلنڈر کے درمیان میں لوائے احمدیت  کا بلاک تھا۔ آرٹ پیپر پر چاررنگوں میں شائع اس کیلنڈر کی چوڑائی 18انچ اور لمبائی 22انچ تھی۔ اسلامی تعطیلات سبزرنگ، سرکاری تعطیلات سُرخ رنگ اور عام تاریخیں سیاہ رنگ میں درج کی گئیں۔جمعدارفضل الدین صاحب کمبوہ نے 1960 میں ’’فضلِ عمر ہجری شمسی دائمی تقویم‘‘ کے نام سے ایک مستقل تقویم شائع کی جس میں چودہ کیلنڈر ہیں جن کی مدد سے ہزاروں سال قبل اور ہزاروں سال ائندہ کی صحیح تاریخ، دن، مہینہ اور سال بڑی آسانی سے معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے ’’مجمع البحرین‘‘ کے نام سے اس تقویم کا ایک ضمیمہ بھی شائع کیا جس میں ہجری سال سےعیسوی اور عیسوی سال سے ہجری سال معلوم کرنے کا بہترین فارمولا پیش کیا۔