کلامِ امام علیہ السلام

بات یہ ہے کہ جو لوگ خدا کے ہوجاتے ہیں اور واقعہ اپنا وجود اور ذرّہ ذرّہ اپنے جسم کا خدا کی طرف سے سمجھتے ہیں ان کو خدا اور بھی نعمت دیتا ہے اور جو لوگ اپنی رُوح اور اپنے جسم کا ذرّہ ذرّہ خدا کی طرف سے نہیں جانتے ان میں تکبر ہوتا ہے اور وہ دراصل خدا کے گہرے احسان اور اس کی کامل پرورش سے منکر ہوتے ہیں بلکہ ان کے نزدیک جس قدر باپ کو اپنے بیٹے سے روحانی تعلق ہے اس قدر بھی خدا کو اپنے بندہ سے تعلق نہیں کیونکہ وہ مانتے اور قبول کرتے ہیں کہ بیٹا اپنی ماں اور باپ سے اس قدر روحانی تعلق رکھتا ہے کہ ان کے اخلاق سے حصہ لیتا ہے۔ مثلاً جب بیٹے کا باپ شجاعت کی صفت سے موصوف ہے بیٹے میں بھی وہ صفت کسی قدر آجاتی ہے اور جس باپ میں مادہ فراست اور عقل کا بہت ہے، بیٹا بھی اس میں سے کسی قدر حصہ پاتا ہے ۔

(نسیمِ دعوت ، روحانی خزائن جلد 19صفحہ 389)