سرجان اے میکڈانلڈ: کینیڈا کےپہلے وزیرِ اعظم


جان اے میکڈانلڈ گلاسگو، اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی درست تاریخ پیدائش ہمیشہ ہی ایک معمہ رہی ہے۔ ان کے والد کی ڈائری کے مطابق ان کی تاریخ پیدائش  11 جنوری 1815 ہے اور ان کے اہلِ خانہ نے ان سالگرہ بھی ہمیشہ 11 جنوری کو ہی منائی تاہم ان  کے برتھ سرٹیفیکٹ پر 10 جنوری 1815 کی تاریخ درج ہے۔

یکم جنوری 1820 کو پانچ سال کی عمر میں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ  ہجرت کرکے کنگسٹن، اَپر کینیڈا میں آبسے۔  ان کے والد نے کئی قسم کے کام کرنے کی کوشش کی تاہم کسی میں بھی  قابلِ ذکرکامیابی نصیب نہ ہوئی۔  اُن کا خاندان ہمیشہ غربت کا شکار رہا ہے۔

جان اے میکڈانلڈ نے یکم اپریل 1830 کو جارج میکنزے کنگسٹن میں وکالت کی کلاس میں داخلہ لیا اور  6 فروری 1836 کو وکالت کا لائسنس لینے میں کامیاب ہوگئے۔

جان اے میکڈانلڈ کی پہلی شادی ازیبلا کلارک سے 7ستمبر 1843 کو کنگسٹن میں ہوئی۔ ازیبلا کی وفات 1856 میں 45 سال کی عمر ہوئی۔

اُن کا سیاسی سفر 1844 میں شروع ہوا جب 15 اکتوبر کنگسٹن کے حلقہ سے صوبہ کینیڈا کی لیجیسٹو اسمبلی کے نمائندہ منتخب ہوئے۔

13مارچ 1850 کو ان کے ہاں جوڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی۔ ایک بیٹا صغیرسنی میں وفات پاگیا جبکہ دوسرے بیٹے Hugh MacDonald نے لمبی عمر پائی ۔  یہ بھی وکالت کے شعبہ سے تعلق رکھتے تھے اور صوبہ مینی ٹوبہ کے پریمئر بھی منتخب ہوئے۔

جان اے میکڈانلڈ  یکم ستمبر 1854 کو اٹارنی جنرل نامزد ہوئے۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ وہ 24 مئی  1856 کو صوبہ کینیڈا کے  Etienne-Paschal Tache کے ساتھ مشترکہ پریمئر منتخب ہوئے۔

1866 میں صوبہ کینیڈا ، نوااسکوشیا اور نیوبرونزوِک  کے  ایک 16رکنی وفد نے برطانوی حکومت سے لندن انگلینڈ میں مذاکرات کئے۔ تین ماہ  طویل مذاکرات میں صوبہ کیوبک کی حیثیت کا بھی جائزہ لیا گیا اور بالآخر 4دسمبر 1866 کو برٹش نارتھ امریکہ ایکٹ کے عنوان سے ایک نئی دستاویز تشکیل پائی جس کے تحت کینیڈا کی حیثیت ایک خودمختار ملک کی قرار پائی۔

یکم جولائی 1867 کو صوبہ انٹاریو، کیوبک، نوااسکوشیا اور نیوبرونزوِک   پر مشتمل ’’کینیڈا‘‘ بطور ملک معرضِ وجود میں آیا اور اسی دن  جان اے میکڈانلڈ کینیڈا کے پہلے وزیراعظم مقرر ہوئے۔ اسی دن سر جان اے میکڈانلڈ نے ملکہ وکٹوریہ سے ،کنفڈریشن کے قیام کے لئے خدمات سرانجام دینے کے اعتراف میں ،   نائٹ ہُڈ کا خطاب پایا نیز آکسفورڈ یونیورسٹی نے اعزازی طور پر ڈاکٹر آف سِول لاء کی ڈگری دی۔

اسی دوران اُن کی دوسری شادی 16 فروری 1867 کو سوسن اگنس برنارڈ سے لنڈن انگلینڈ میں ہوئی۔ 8 فروری 1989 کو  ان کے ہاں ایک بچی میری کی پیدائش ہوئی۔ میری پیدائشی طورپر معذور تھیں اور انہوں اپنی تمام زندگی وہیل چیئر پر گزاری۔  سر جان اے میکڈانلڈ نہایت شفیق والد تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو  تین انگلیوں سے ٹائپینگ کرنا سکھایا کیوں کہ وہ قلم کو پکڑ نہیں سکتی تھیں۔  ان کی کہانی کو بچوں کی کتاب Babooمیں بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔

سر جان اے میکڈانلڈکی کوششوں سے  15 جولائی  1970کو مینی ٹوبا نے  پانچویں صوبہ کے طور پر کینیڈا میں شمولیت اختیار کی۔  اُسی دن تاجِ برطانیہ نے  Repert کی زمین اور شمال مغربی علاقہ کینیڈا کو سونپ دئیے۔ یہ آج کے مینی ٹوبا، سسکاچوان کا اکثر حصہ، جنوبی البرٹا، جنوبی نوناووٹ اور اونٹاریو اور کیوبک کے شمالی علاقہ جات پر مشتمل علاقے تھے۔  جبکہ 20 جولائی 1871 کو برٹش کولمبیا بھی چھٹے صوبہ کی حیثیت سے کینیڈا میں شامل ہوگیا۔

20 جولائی 1872 کو کنزرویٹو  پارٹی نے200 کے ایوان میں  103 نشستوں کے ساتھ دوبارہ حکومت بنالی اور سر جان اے میکڈانلڈ بدستور کینیڈا کے وزیراعظم رہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد یکم جولائی 1873 کو پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ نے ساتویں صوبہ کی حیثیت سے کینیڈا میں شمولیت اختیار کرلی۔

1873 کا سال سر جان اے میکڈانلڈ کی حکومت کے لئے کافی مشکل سال رہا۔ اس سال کینڈین پیسفک ریلوے کے ٹھیکہ میں  اپوزیشن لبرل  پارٹی کی  طرف سے بدعنوانی کا الزام لگایا گیا اور بالآخر 5 نومبر کو  حکومت کو استعفیٰ دینا پڑا۔   جنوری 1874 کو ہونے والے انتخابات میں سر جان اے میکڈانلڈ کو پہلی دفعہ شکست کا سامنا ہوا اور 22 جنوری کو اگلے چار سال کے لئے ملکہ برطانیہ کی طرف سے اپوزیشن لیڈر  مقرر ہوئے۔ ان انتخابات میں لبرل پارٹی نے 133 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے حکومت بنائی اور لبرل پارٹی کی طرف سے الگزینڈرمیکنزی پہلی دفعہ وزیراعظم بنے۔ 17 ستمبر 1878 کے الیکشن میں سر جان اے میکڈانلڈ اپنے کنگسٹن کے حلقہ سے شکست کھاگئے مگر تین دوسرے صوبوں سے جیت گئے۔ ان دِنوں مختلف صوبوں میں انتخاب مختلف دِنوں میں ہوتا تھا اور امیدوار ایک سے زائد حلقوں سے انتخاب لڑسکتے تھے۔ (جیسے 2018 کے پاکستانی انتخابات میں عمران خان کئی حلقوں سے انتخاب لڑے تھے) سر جان اے میکڈانلڈ  دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوگئے۔  انتخابی وعدہ کو پورا کرتے ہوئے انھوں نے 14 مارچ 1879 کو امریکی اشیاء پر اوسطاً 25 فی صد ٹیرف عائد کردیا۔

جون 1882 کے انتخابات میں کنزرویٹو نے 71 کے مقابلہ میں 139 نشستیں جیت کر حکومت برقرار رکھی اور 20 جون کو سر جان اے میکڈانلڈ ایک بار پھر وزیراعظم مقرر ہوئے۔

15ہزار چینیوں نے یکم جنوری 1885 کو کینڈین پیسفک ریلوے کے برٹش کولمبیا سیکشن کی تکمیل کی۔ یہ انتہائی مشکل کام تھا جس میں خراب موسم اور سخت مشقت کی وجہ سے 600 چینیوں کی جانیں چلی گئیں۔  اس مرحلہ پر حکومتِ کینیڈا نے چینیوں کی امیگریشن پر 50ڈالر فی فرد ٹیکس عائد کردیا۔ یہ ٹیکس صرف چینیوں پر ہی عائد تھا۔ اس ٹیکس کی وجہ سے اس سال صرف 8 چینی کینیڈا آئے حالانکہ اس گذشتہ سال 4719 چینی کینیڈا آئے تھے۔ (1903 تک یہ ٹیکس 500ڈالر ہوچکا تھا) 

16 نومبر 1885 کو صوبہ مینی ٹوبہ کے بانی ،  کینیڈین سیاستدان  اور میٹس عوام کے رہنمالوئیس ڈیوڈریل کو غداری کے الزام میں پھانسی دے دی گئی اور سر جان اے میکڈانلڈ نے ان کو کسی قسم کی معافی دینے سے انکارکردیا۔ لوئیس پر الزام تھا کہ وہ  برطانوی راج کے کینیڈین عوام پر ظلم وستم کے خلاف آواز اٹھاتے تھے۔

22 فروری 1887 کو کنزرویٹو پارٹی نے ایک دفعہ پھر انتخابات جیت لئے اور سر جان اے میکڈانلڈ بدستور وزیراعظم رہے۔ اسی طرح 5 مارچ 1891 کو بھی ہونے والے انتخابات جیت کر سر جان اے میکڈانلڈ وزیراعظم برقرار رہے۔  تاہم صرف تین ماہ کے بعد 6 جون 1891 کو 76 سال کی عمر میں وفات پاگئے ۔ ان کا جسدِ خاکی ایک تابوت میں  سینٹ میں رکھا گیا جہاں ہزاروں سوگواروں نے ان کا آخری دیدار کیا۔

سر جان اے میکڈانلڈ نے ایک بھرپور زندگی گزاری۔ اگرچہ ان کی زندگی کے کئی  ذاتی پہلوؤں پر سخت تنقید کی گئی، مگر بطور وزیراعظم  انہوں نے کینیڈا کے لئے ان گنت ، ناقابل، فراموش خدمات سرانجام دیں۔ ہم آج 2019 میں جس پُرامن اور ترقی یافتہ کینیڈا میں رہ رہے ہیں اس کا سہرا بہرحال سر جان اے میکڈانلڈ کے سر ہے۔

https://www.thecanadianencyclopedia.ca/en/timeline/sir-john-a-macdonald ماخذ: